نئی دہلی،10/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بنگلور ٹیسٹ میں ہوا ڈی آرایس تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔اس مسئلے پر سابق کرکٹر سنیل گواسکر نے اب انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)پر دوہرے رویے کا الزام لگایا ہے۔گواسکر نے آئی سی سی کی طرف سے آسٹریلیائی کپتان اسٹیو اسمتھ کو سزا نہ دینے کے لیے اسے جانبدار قرار دیا ہے۔قابل ذکرہے کہ اسمتھ نے ہندوستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوران ڈی آرایس ریفرل لینے کے لیے ڈریسنگ روم کا اشارہ مانگا تھا جو قوانین کے خلاف ہے۔ گواسکر نے کہا کہ وہ رانچی میں ہونے والے اگلے ٹیسٹ میں ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی کو ڈی آرایس لیتے وقت ڈریسنگ روم سے مدد لیتے ہوئے دیکھنا پسند کریں گے اور انہیں سزا بھی نہیں ملے۔گواسکر نے کہاکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کچھ ممالک کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اختیارکیا جائے، جبکہ کچھ ممالک کے خلاف ایکشن لیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایک ہندوستانی کھلاڑی ڈریسنگ روم سے مشورہ مانگتا ہے تو اسے بھی سزا نہیں ملنی چاہیے۔گواسکر نے کہاکہ میں چاہوں گا کہ تیسرے ٹیسٹ میں اگر وراٹ کوہلی کو آؤٹ دیا جاتا ہے اور وہ ڈی آرایس لینے کے لیے ہندوستانی ڈریسنگ روم کی طرف دیکھیں اور اس کو ان سے کسی بھی طرح کا رد عمل ملے،ہاں یا نہیں، جو بھی اشارہ ہو۔دیکھتے ہیں کہ اس وقت میچ ریفری اور آئی سی سی کیا فیصلہ کرتے ہیں۔آئی سی سی نے بدھ کو اسمتھ اور ہندوستانی کپتان کوہلی کے خلاف الزام نہیں لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس واقعہ سے بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جس میں متعلقہ بورڈ، بی سی سی آئی اور کرکٹ آسٹریلیا اپنے کپتانوں کی حمایت کر رہے ہیں۔گواسکر نے کہا کہ آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ کو اسمتھ کے اشارہ مانگنے میں کوئی غلط چیز نہیں لگی۔انہوں نے کہاکہ براڈ نے کچھ نہیں دیکھا کہ اسمتھ نے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔